ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گجرات فساد:ذکیہ جعفری کو بڑی کامیابی ملی مودی کے خلاف سماعت کیلئے سپریم کورٹ تیار

گجرات فساد:ذکیہ جعفری کو بڑی کامیابی ملی مودی کے خلاف سماعت کیلئے سپریم کورٹ تیار

Wed, 14 Nov 2018 13:20:14    S.O. News Service

نئی دہلی،14؍نومبر(ایس او نیوز؍پی ٹی آئی) 2002 گجرات فساد کے معاملے میں اس وقت ریاست کے وزیراعلیٰ نریندرمودی اور دیگر کو ایس آئی ٹی کے ذریعہ دی گئی کلین چٹ کو چیلنج دینے والی عرضی پر سماعت کیلئے سپریم کورٹ تیارہوگیا ہے ۔ سابق کانگریس رکن پارلیمان احسان جعفری کی بیوی ذکیہ جعفری نے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی ۔ بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ 19 نومبرکو اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ گجرات ہائی کورٹ نے ایک سال پہلے ذکیہ جعفری کی عرضی کوخارج کردیا تھا جس میں انہوں نے 2002 میں ہوئے فسادات کے تعلق سے اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندرمودی اور دیگر کو ایس آئی ٹی کے ذریعہ دی گئی کلین چٹ کو برقرار رکھنے کی ذیلی عدالت کے فیصلہ کو چیلنج کیا تھا۔ غور طلب ہے کہ عدالت نے واضح الفاظ میں کہہ دیا تھاکہ گجرات فسادات کی دوبارہ جانچ نہیں ہوگی۔ گجرات ہائی کورٹ نے ذکیہ جعفری کے ذریعہ ’’بڑی سازش‘‘ والی بات کو بھی نظرانداز کردیا تھا اور کہاتھاکہ اس معاملے میں کسی طرح کی جانچ نہیں کرائی جائے گی۔ گجرات ہائی کورٹ میں جسٹس سونیا گوکانی کے سامنے ذکیہ جعفری کی اس عرضی پر سماعت 3جولائی 2017 کو مکمل ہوئی تھی ۔عرضی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مودی اور سینئر پولیس افسر سمیت 59 دیگر کو سازش میں مبینہ طورپر شامل ہونے کے لئے ملزم گردانا جائے۔ عرضی میں اس معاملے کی از سر نو جانچ کے لئے ہائی کورٹ سے حکم جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ گجرات فسادات کے معاملے میں احمد آباد عدالت سے دسمبر 2013 میں نریندرمودی کو کلین چٹ مل گئی تھی ۔ معلوم ہوکہ گجرات میں 2002 کے دوران فسادات ہوئے تھے اس وقت نریندرمودی ریاست کے وزیراعلیٰ تھے ۔ واضح رہے کہ 28 فروری 2002 کو کانگریس رکن پارلیمان احسان جعفری سمیت کم از کم 68 افراد احمد آباد کے کلبرگ سوسائٹی میں مارے گئے تھے ۔ مارچ 2008 میں سپریم کورٹ کے تحت تشکیل کردہ ایس آئی ٹی کے ذریعہ جعفری کے الزامات کی جانچ کی گئی ۔ ایس آئی ٹی نے اس وقت کے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندرمودی سے 2010 میں 9 گھنٹے سے زیادہ وقت تک پوچھ گچھ کی تھی ۔بعد میں نریندرمودی کو کلین چٹ مل گئی تھی۔ 59 مزیدلوگوں کو کلین چٹ دینے کے بعد ایس آئی ٹی نے یہ کہتے ہوئے کہ ان ملزمین کے خلف مقدمہ چلانے کے لئے پختہ ثبوت نہیں ہیں ، جانچ بند کردی گئی تھی ۔ تاہم ذکیہ جعفری کے نمائندے نے دعویٰ کیا تھا کہ ذیلی عدالت نے سپریم کورٹ کی ہدایت کو نظرانداز کیا اور گواہوں کے دستخط کئے گئے بیانات پر غورنہیں کیا گیا ۔13نومبرکو عدالت نے کہا ہے کہ اس معاملے میں خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی کلوزر رپورٹ کے مطالعے کی ضرورت ہے اس لئے 19 نومبرکو وہ عرضی پر سماعت کرے گا۔


Share: